المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن شماسة، عن عقبة بن عامر باب: عبدالرحمن بن شماسہ کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى بِنَا خَفَّفَ فَرَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّهُ رَكَعَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَلََّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ رَاعَكُمْ طُولُ صَلَاتِي وَقِيَامِي» قُلْنَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ: «أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ؟» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ فِي الْآخِرَةِ إلَّا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ مِنْهَا شَرَرٌ حَتَّى حَاذَى خِبَائِي هَذَا فَخَشِيتُ أنْ يَتَغَشَّاكُمْ، فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ؟ فَصَرَفَهَا اللهُ عَنْكُمْ فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ، فَنَظَرْتُ نَظْرَةً فَرَأَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُرْثانَ بْنِ الْحَارِثِ أَحَدَ بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةَ صَاحِبَةَ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ سَقَتْهَا " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: الصَّوَابُ حُرْثَانَپھر آپ ﷺ نے اس کے بعد رکوع کیا، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں کہ میری طویل نماز اور قیام نے تمہیں پریشان کر دیا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! اور ہم نے آپ کو یہ کہتے سنا: ”اے میرے رب! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم سے آخرت میں جس چیز کا بھی وعدہ کیا گیا ہے وہ سب میرے اسی مقام پر مجھے دکھا دی گئی، یہاں تک کہ مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو اس کی چنگاریاں میری طرف بڑھیں یہاں تک کہ میرے اس خیمے کے برابر آ گئیں، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ تمہیں ڈھانپ نہ لے، چنانچہ میں نے کہا: اے میرے رب! کیا میں بھی ان میں ہوں؟ تو اللہ نے اسے تم سے پھیر دیا اور وہ ٹکڑوں کی صورت میں ایسے پیچھے ہٹی جیسے قالین لپٹے جا رہے ہوں۔ پھر میں نے ایک نظر دیکھا تو عمران بن حرثان بن حارث، جو بنو غفار میں سے تھا، اسے جہنم میں اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، اور اس میں اس حمیری عورت کو بھی دیکھا جو بلی باندھنے والی تھی، جسے نہ اس نے کھلایا اور نہ پلایا۔“
احمد بن صالح کہتے ہیں: صحیح نام حرثان ہے۔