حدیث نمبر: 14939
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَقَالَ النَّاسُ وَرَاءَهُ: سُبْحَانَ اللهِ، فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللهِ كَيْمَا أَجْلِسَ وَأَنْ لَيْسَ تِلْكَ السُّنَّةَ، وَإِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُ "
ترجمہ

ابن شماسہ کہتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، وہ کھڑے ہو گئے حالانکہ ان پر بیٹھنا لازم تھا۔ ان کے پیچھے لوگوں نے سبحان اللہ کہا مگر وہ نہ بیٹھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”میں نے تمہیں سبحان اللہ کہتے سنا تاکہ میں بیٹھ جاؤں، حالانکہ یہ سنت نہیں ہے، بلکہ سنت وہی ہے جو میں نے کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14939
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 314، حدیث 868