حدیث نمبر: 14910
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُوَيْدٍ الْوَائِلِيِّ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فِي غَنَمٍ أَرْعَاهَا فَتَرَكْتُهَا، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: تُبَايِعُنِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَبَيْعَةُ هِجْرَةٍ أَوْ بَيْعَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ؟» فَقُلْتُ: بَيْعَةُ هِجْرَةٍ فَبَايَعَنِي، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ هَاهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ؟» فَقُمْتُ، فَقَالَ: «اقْعُدْ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ هَاهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ؟» فَقُمْتُ، فَقَالَ: «اقْعُدْ» ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ: «اقْعُدْ» ، فَقُلْتُ: مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ، ثُمَّ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرٍ»
ترجمہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ منبر پر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں اس وقت بکریاں چرا رہا تھا، میں نے انہیں چھوڑا اور آپ ﷺ کی طرف چل پڑا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بیعت لیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کس قبیلے سے ہو؟“ میں نے آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کون سی بیعت زیادہ پسند ہے، ہجرت کی بیعت یا اعرابی (بدوی) بیعت؟“ میں نے عرض کیا: ہجرت کی بیعت۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مجھ سے بیعت لے لی۔ پھر فرمایا: ”یہاں معد (قبیلے) میں سے جو ہو وہ کھڑا ہو جائے۔“ میں کھڑا ہو گیا تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر فرمایا: ”یہاں معد میں سے جو ہو وہ کھڑا ہو جائے۔“ میں پھر کھڑا ہو گیا تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر تیسری بار یہی فرمایا تو میں کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کس نسب سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم قضاعہ سے ہو، پھر مالک بن حمیر سے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14910
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 304، حدیث 839