المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه باب: محمد بن جبیر بن مطعم کی اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 1485
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ جَاءَ فِي فِدَاءِ أُسَارَى أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: " فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالطُّورِ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي مِنْ قِرَاءَتِهِ كَالْكَرْبِ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُ، مِنْ أَمْرِ الْإِسْلَامِ "ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ بدر کے قیدیوں کے فدیے کے سلسلے میں آئے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں ”والطور، وکتاب مسطور، فی رق منشور“ پڑھتے پایا۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کی قراءت سے مجھ پر گویا ایک کرب سا طاری ہو گیا، اور یہ اسلام کے معاملے میں سب سے پہلی بات تھی جو میں نے سنی۔