المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
فلفلة الجعفي، عن أبي مسعود باب: فلفلہ جعفی کی سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلْفُلَةُ الْجُعْفِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وَجْهِ الْمُسْلِمِينَ وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَاللهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللهُ بِرِزْقٍ» فَعَلِمَ عُثْمَانُ أنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعِينَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً مِنْهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ، فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُؤِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ: «اللهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ، اللهُمَّ افْعَلْ بِعُثْمَانَ»(روایت کا آغاز حذف ہے) لوگوں کو ایک سخت تنگی نے آ لیا یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر غم اور منافقین کے چہروں پر خوشی دیکھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! سورج غروب نہیں ہوگا یہاں تک کہ اللہ تمہارے پاس رزق بھیج دے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یقین ہو گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سچے ثابت ہوں گے، چنانچہ انہوں نے غلے سمیت چالیس اونٹ خرید لیے، اور ان میں سے نو نبی کریم ﷺ کی طرف بھیج دیے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: عثمان نے آپ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی اور منافقین کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں ہو گئے، اور میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایسی دعا کی جیسی میں نے نہ اس سے پہلے کسی کے لیے سنی اور نہ بعد میں: ”اے اللہ! عثمان کو عطا فرما، اے اللہ! عثمان کے ساتھ بھلائی کر۔“