المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نعيم بن دجاجة، عن أبي مسعود باب: نعیم بن دجاجہ کی سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَجَاءَهُ عُقْبَةَ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَمَا أَرَاكَ تُفْتِي النَّاسَ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي أُحَدِّثُهُمْ أنَّ الْآخِرَ شَرٌّ، فَقَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْمِائَةِ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَفِي الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ» ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْطَأْتَ إِنَّمَا قَالَ: «لِمَنْ هُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَهَلْ بِالرَّخَاءِ وَالْفَرَحِ إِلَّا بَعْدَ الْمِائَةِ»نعیم بن دجاجہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ سیدنا عقبہ ابومسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں نہیں دیکھتا کہ تم لوگوں کو فتوے دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: سنیے! میں تو انہیں یہی بتاتا ہوں کہ بعد والا دور بدتر ہوگا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں وہ بات بتاؤ جو تم نے نبی کریم ﷺ کو سو (سال) کے بارے میں فرماتے سنی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”لوگوں پر سو سال اس حال میں نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ جھپکنے والی (باقی) ہو۔“ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے غلطی ہوئی، آپ ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا: ”(یہ) ان لوگوں کے لیے ہے جو اس دن روئے زمین پر موجود ہوں گے“، اور کیا فراخی اور خوشی سو (سال) کے بعد ہی نہیں آئے گی؟