المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أخبار أبي مسعود ووفاته باب: سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے احوال اور وفات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى الْكُوفَةِ، وَكَانَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ اسْتَخْفَوْا عَلِيًّا فَلَمَّا خَرَجَ ظَهَرُوا، وَكَانَ نَاسٌ يَأْتُونَ أَبَا مَسْعُودٍ فَيَقُولُونَ: قَدْ وَاللهِ أَهْلَكَ اللهُ أعْدَاءَهُ وَأَظْفَرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَيَقُولُ أَبُو مَسْعُودٍ: «إنِّي وَاللهِ مَا أَعُدُّهُ ظَفَرًا وَلَا عَافِيَةً أَنْ تَظْهَرَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى» قَالُوا: فَمَهْ؟ قَالَ: «يَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحٌ» فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «اعْتَزِلْ عَمَلَنَا» قَالَ: وَذَاكَ مَهْ؟ قَالَ: «إنَّا وَجَدْنَاكَ لَا تَعْقِلُ عَقْلَةً» قَالَ: «أَمَّا أَنَا فَقَدْ بَقِيَ مِنْ عَقْلِي مَا أعْلَمُ أَنَّ الْآخِرَ شَرٌّ»امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف نکلے تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو کوفہ پر اپنا نائب مقرر کیا۔ اہلِ کوفہ میں سے کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے چھپے رہے تھے، پھر جب وہ (صفین کو) نکلے تو ظاہر ہو گئے۔ کچھ لوگ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہتے: اللہ کی قسم! اللہ نے اس کے دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور مومنوں کو فتح دی۔ تو ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے: ”اللہ کی قسم! میں اسے فتح یا عافیت نہیں سمجھتا کہ دو گروہوں میں سے ایک دوسرے پر غالب آ جائے۔“ لوگوں نے پوچھا: پھر کیا بہتر ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ لوگوں کے درمیان صلح ہو جائے۔“ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو لوگوں نے یہ بات ان سے ذکر کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارے کام سے الگ ہو جاؤ۔“ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے تمہیں ایسا پایا کہ تمہاری عقل کچھ کمزور ہو گئی ہے۔“ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جہاں تک میرا تعلق ہے، میری عقل میں سے اتنا تو باقی ہے کہ میں جانتا ہوں کہ بعد والا حصہ پہلے سے بدتر ہے۔“