المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عم خارجة بن الصلت يقال: اسمه علاقة بن صحار باب: سیدنا خارجہ بن صلت رضی اللہ عنہ کے چچا، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام علاقہ بن صحار تھا
حدیث نمبر: 14581
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّ عَمًّا لَهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، فَلَمَّا رَجَعَ مَرَّ بِهِ عَلَى أَعْرَابِيٍّ مَجْنُونٍ مُوثَقٍ بِالْحَدِيدِ فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: أَعِنْدَكَ شَيْءٌ نُدَاوِيهِ فَإِنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَقَيْتُهُ بِأُمِّ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ فَبَرَأَ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَلَمْ آخُذْهَا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: قُلْتَ غَيْرَ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: «كُلْهَا بِاسْمِ اللهِ، فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ»ترجمہ
(روایت کا آغاز حذف ہے، سورۃ فاتحہ سے دم کرنے کا ذکر تھا) میں نے تین دن، ہر دن دو مرتبہ ام الکتاب (سورۃ فاتحہ) پڑھ کر دم کیا تو وہ شفایاب ہو گیا، انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں نے وہ نہیں لیں یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر آپ ﷺ کو بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کے علاوہ کچھ اور بھی کہا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھا لو، اللہ کا نام لے کر، میری جان کی قسم! جس نے باطل دم سے کچھ کھایا، تم نے تو حق دم سے کھایا ہے۔“