المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جعفر بن أبي طالب الطيار في الجنة، رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله، وأمه فاطمة بنت أسد بن هاشم باب: سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جنت میں اڑنے والے (طیار)، کنیت ابوعبداللہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں
حدیث نمبر: 1457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَرِّحٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ هِجْرَةِ الْحَبَشَةِ، تَلَقَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَانَقَهُ، وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَقَالَ: «مَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا أَنَا أَسَرُّ، بِفَتْحِ خَيْبَرَ، أَوْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ»ترجمہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تو نبی کریم ﷺ ان کے استقبال کے لیے تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں گلے لگایا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، اور فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں میں سے کس پر مجھے زیادہ خوشی ہے، خیبر کی فتح پر یا جعفر کی آمد پر۔“