المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جعفر بن أبي طالب الطيار في الجنة، رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله، وأمه فاطمة بنت أسد بن هاشم باب: سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جنت میں اڑنے والے (طیار)، کنیت ابوعبداللہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ فَتَحَ خَيْبَرَ قِيلَ لَهُ: قَدْ قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا أَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ، أَوْ فَتْحِ خَيْبَرَ، فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ»ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ خیبر فتح کرنے کے بعد پہنچے تو آپ ﷺ سے کہا گیا: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس سے آ گئے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں میں سے کس پر مجھے زیادہ خوشی ہے، جعفر کی آمد پر یا خیبر کی فتح پر“، پھر آپ ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔