المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن سفيان الثقفي باب: سیدنا عاصم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ إِلَيْهِ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ فَأَبَى أَنْ يَعْمَلَ لَهُ، ثُمّ قَالَ: إنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَرَ بالوالي فَيُوقَفُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَيَأْمُرُ الْجِسْرَ فَيَنْتَفِضُ انْتِفَاضَةً، فَيَزُولُ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ، ثُمَّ يَأْمُرُ اللهُ الْعِظَامَ فَتَرْجِعُ إِلَى مَكَانِهِ، ثُمَّ يَسْأَلهُ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ مُطِيعًا اجْتَبَذَهُ فَأَعْطَاهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ وإِنْ كَانَ لِلَّهِ عَاصِيًا حَرَفَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى إِلَى جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا»سیدنا عاصم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا تاکہ وہ صدقہ کی وصولی کے کسی کام میں ان کی مدد کریں، تو انہوں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے دن حکمران کو حکم دیا جائے گا تو اسے جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر پل کو حکم دیا جائے گا تو وہ ایسے جھٹکے سے ہلے گا کہ اس کی ہر ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی، پھر اللہ ہڈیوں کو حکم دے گا تو وہ اپنی جگہ واپس آ جائیں گی، پھر اس سے پوچھا جائے گا، اگر وہ اللہ کا فرماں بردار تھا تو اسے کھینچ لیا جائے گا اور اسے دگنا اجر دیا جائے گا، اور اگر وہ اللہ کا نافرمان تھا تو پل اسے پھینک دے گا اور وہ ستر برس تک جہنم میں گرتا چلا جائے گا۔“