المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جعفر بن أبي طالب الطيار في الجنة، رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله، وأمه فاطمة بنت أسد بن هاشم باب: سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، جنت میں اڑنے والے (طیار)، کنیت ابوعبداللہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَيْشًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ: «فَإِنْ قُتِلَ، وَاسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنْ قُتِلَ، وَاسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ» فَانْطَلَقُوا فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَفَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، فَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، - أَوِ اسْتُشْهِدَ - ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، - أَوِ اسْتُشْهِدَ - ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، أَوِ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ» ، ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا، أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: «لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ بَعْدَ الْيَوْمِ» ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوا بَنِي أَخِي» ، فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: «ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ» ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا عَوْنُ فَشَبِيهُ خَلْقِي، وَخُلُقِي» ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَشَالَها، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَخْلِفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ» ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ يُتْمَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ، وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةِ»… سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا: ”اگر وہ قتل ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو تمہارے امیر جعفر بن ابی طالب ہوں گے، اگر جعفر قتل ہو جائیں تو تمہارے امیر عبداللہ بن رواحہ ہوں گے۔“ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور دشمن سے ملے، تو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھایا تو اللہ عزوجل نے ان کے ذریعے فتح عطا فرمائی۔ ان کی خبر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”امابعد! تمہارے بھائی دشمن سے ملے، سیدنا زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے - یا شہید ہو گئے - پھر سیدنا جعفر نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے - یا شہید ہو گئے - پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا اٹھایا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ قتل ہو گئے، یا شہید ہو گئے، پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، سیدنا خالد بن ولید نے اٹھایا تو اللہ نے ان کے ذریعے فتح دی۔“ پھر آپ ﷺ نے آلِ جعفر کو تین دن مہلت دی کہ ان کے پاس تشریف لائیں، پھر ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”آج کے بعد اس پر نہ رونا۔“ پھر فرمایا: ”میرے بھتیجوں کو بلاؤ“، تو ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے حجام کو بلاؤ“، تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا اور اس نے ہمارے سر مونڈ دیے، پھر فرمایا: ”محمد تو ہمارے چچا ابوطالب سے مشابہ ہے، اور عون میری صورت اور میری سیرت سے مشابہ ہے“، پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! جعفر کے گھر والوں میں ان کا نعم البدل بن جا، اور عبداللہ کے سودے میں برکت ڈال“، تین بار یہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہماری والدہ آئیں اور ہماری یتیمی کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ان پر مفلسی کا خدشہ ہے، جبکہ میں دنیا اور آخرت میں ان کا ولی ہوں؟“