المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عتبة بن مسعود الهذلي أخو عبد الله بن مسعود باب: سیدنا عتبہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھائی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا أَبُو مَعْدَانَ الْمِنْقَرِيُّ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ إنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِه؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «مَنْ رَبُّكِ؟» قَالَتْ: اللهُ رَبِّي قَالَ: «فَمَا دِينُكِ؟» قَالَتْ: الْإِسْلَامُ قَالَ: «فَمَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: «فَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ أَشْهَدُ أَنَّك رَسُولُ اللهِ قَالَ: «وَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «وَتَصُومِينَ رَمَضَانَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «وَتُقِرِّينَ بِمَا جَاءَ مِن عِنْدِ اللهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَضَرَبَ عَلَى ظَهْرِهَا وَقَالَ: «أَعْتِقِيهَا فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْكِ»عون بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک سیاہ فام لونڈی لے کر آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ پر ایک مومنہ غلام آزاد کرنا واجب ہے، کیا یہ کافی ہو گی؟ رسول اللہ ﷺ نے (لونڈی سے) پوچھا: ”تمہارا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ میرا رب ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا دین کیا ہے؟“ اس نے کہا: اسلام۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا تم پانچوں نمازیں پڑھتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا رمضان کے روزے رکھتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور کیا اللہ کی طرف سے آنے والی چیز کا اقرار کرتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دی اور فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ تمہاری طرف سے کافی ہو گئی۔“