المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو المثنى المليكي، عن عتبة بن عبد باب: ابومثنیٰ ملیکی کی سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابُلُتِّيُّ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيُّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدً بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ: ذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللهِ تَحْتِ عَرْشِهِ، لَا يُفْضَلُونَ إِلَّا بِفَضْلِ دَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا فَأَكْثَرَ، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ تَحْتَ ذُنُوبِهِ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءُ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، فَإِنِّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ: ذَلِكَ فِي النَّارِ إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ "سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قتل ہونے والے تین طرح کے ہیں: ایک مومن آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ جب دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے تو وہ لڑتا ہے یہاں تک کہ مارا جاتا ہے - یہ وہ فخر کرنے والا شہید ہے جو اللہ کے خیمے میں، اس کے عرش کے نیچے رہے گا، انبیاء اس پر صرف نبوت کے درجے کی فضیلت رکھتے ہیں۔ دوسرا ایک مومن آدمی جس نے اپنے آپ پر بہت سے گناہ اور خطائیں چڑھائی ہوں، وہ اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے، وہ لڑتا ہے یہاں تک کہ مارا جاتا ہے - تو یہ اس کے گناہوں اور خطاؤں کے لیے ان کا مٹا دینے والا ہے، بے شک تلوار خطاؤں کو مٹا دینے والی ہے، اور اسے جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کیا جائے گا، کیونکہ اس کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں، اور ان میں سے بعض بعض سے افضل ہیں۔ تیسرا ایک منافق آدمی جو اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں بظاہر جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے، وہ لڑتا ہے یہاں تک کہ مارا جاتا ہے - یہ آگ میں جائے گا، کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔“