المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1437
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الشَّامِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ، فَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ جَارِيًا، مُسْتَقْبِلَ جَرْيَةَ الْمَاءِ، وَلْيَقُلِ اللهُمَّ صَدِّقْ رَسُولَكَ، وَاشْفِ عَبْدَكَ، بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، ولْيَغْمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ، فَفِي سَبْعٍ، وَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ، فَفِي تِسْعٍ، فَإِنَّهَا لَا تَكَادُ أَنْ تُجَاوِزَ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللهِ»ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار آئے تو بیشک بخار جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا ہے، تو اسے ٹھنڈے بہتے پانی سے، پانی کے بہاؤ کا رخ کر کے بجھائے، اور کہے: اے اللہ! اپنے رسول کو سچا کر، اور اپنے بندے کو شفا دے، فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے، اور اس میں تین بار غوطہ لگائے، اگر پانچ دن میں شفا نہ ہو تو سات دن میں، اور اگر سات دن میں شفا نہ ہو تو نو دن میں، کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے نو دن سے تجاوز نہیں کرتا۔“