المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سماك بن حرب، عن تميم باب: سماک بن حرب کی تمیم سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، حِينَ أَتَى مَنْزِلًا يَنْزِلُهُ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَ فَقَالَ: مَا مَعِيَ شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ، وَلَكِنْ لِي دِرْعٌ بِالْكُوفَةِ وَهِيَ لَكَ، فَتَسَخَّطَهَا الْأَعْرَابِيُّ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُعْطِيَهُ فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ فِي خَادِمٍ أَنْ تُعِينَنِي فِيهَا، فَقَالَ: أَمَرْتُ لَكَ بِدِرْعِي، فَوَاللهِ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَعْبُدٍ فَرَغِبَ فِيهَا الْأَعْرَابِيُّ وَقَالَ: أَقْبَلُ مَعْرُوفَكَ، فَقَالَ عَدِيٌّ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَصْنَعْ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، مَا أَعْطَيْتُكَ»تمیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، جب وہ ایک منزل پر پہنچے جہاں انہیں ٹھہرنا تھا، تو ان کے پاس ایک بدوی آیا اور اس نے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں جو میں تمہیں دوں، البتہ کوفہ میں میری ایک زرہ ہے، وہ تمہاری ہے۔ بدوی نے اسے ناپسند کیا (اور ناراض ہوا)، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ وہ اسے (کچھ) نہیں دیں گے۔ بدوی نے کہا: میں تو آپ کے پاس اس لیے آیا تھا کہ ایک خادم (کے حصول) میں آپ میری مدد کریں۔ انہوں نے فرمایا: میں تمہارے لیے اپنی زرہ دینے کا کہہ چکا ہوں، اللہ کی قسم! یہ مجھے تین غلاموں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ اس پر اس بدوی نے اس میں رغبت ظاہر کی اور کہا: میں آپ کا احسان قبول کرتا ہوں۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا: 'جو کوئی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر چیز دیکھے تو وہی کرے جو بہتر ہے' تو میں تمہیں یہ نہ دیتا۔“