❮
❯
حدیث نمبر: 14254
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ فَأَتَيْتُهُ فِي نَاسٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْكُوفَةِ وَالْكِتَابِ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ» قُلْتُ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إلَّا اللهُ وَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا خَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا»
ترجمہ

عامر شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو میں کوفہ کے علماء اور کتاب (اللہ) کے جاننے والوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان کے پاس حاضر ہوا، ہم نے عرض کیا: ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامتی پاؤ گے۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور تقدیر پر ایمان لاؤ، اس کی ساری تقدیر پر، اچھی اور بری، میٹھی اور کڑوی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14254
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 81، حدیث 182