المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر إسلامه باب: ان کا قبولِ اسلام
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِِ الْبَغَوِيُّ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ الْكُوفَةَ فَأَتَيْتُهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّبُوَّةِ وَلَا أعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْعَرَبِ كَانَ أَشَدَّ لَهُ بُغْضًا وَلَا أَشَدَّ لَهُ كَرَاهِيَةً مِنِّي، حَتَّى لَحِقْتُ بِالرُّومِ فَتَنَصَّرْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا بَلَغَنِي مَا يَدْعُو إِلَيْهِ مِنَ الْأَخْلَاقِ الْحَسَنَةِ، وَمَا قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنَ النَّاسِ، ارْتَحَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَوَقَفْتُ عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ صُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ فَقَالَ: «يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ» فَقُلْتُ: أَخْ أَخْ فَأَنَخْتُ وَجَلَسْتُ وَأَلْزَقْتُ رُكْبَتِي بِرُكْبَتِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " تُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ وحُلْوِهِ وَمُرِّهِ، يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ لَا تَقُومُ السَّاعَة حَتَّى تُفْتَحَ خَزَائِنُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْتِيَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحَرَّةِ - وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ كُوفَةُ - حَتَّى تَطُوفَ بِهَذِهِ الْكَعْبَةِ بِغَيِْرِ خَفِيرٍ، يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطُوفَ جِرَابُ الْمَالِ فَتَطُوفَ بِهِ وَلَا تَجِدَ لَهُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ فَتَضْرِبَ بِهِ الْأَرْضَ فَتَقُولَ: لَيْتَكَ لَمْ تَكُنْ لَيْتَكَ كُنْتَ تُرَابًا "امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو میں اہل کوفہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ ان کے پاس گیا، ہم نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نبوت کے ساتھ مبعوث ہوئے تو میں عرب میں کسی کو نہیں جانتا تھا جو آپ ﷺ سے مجھ سے زیادہ بغض اور نفرت رکھتا ہو، یہاں تک کہ میں رومیوں سے جا ملا اور ان میں نصرانی ہو گیا۔ پھر جب مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ کن اچھے اخلاق کی دعوت دیتے ہیں اور لوگ کس طرح آپ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے ہیں، تو میں سفر کر کے آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہو گیا، اس وقت آپ ﷺ کے پاس سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامتی پاؤ گے۔“ میں نے (اونٹ بٹھانے کی آواز) ”اخ اخ“ کہی، پھر اونٹ بٹھا کر بیٹھ گیا اور اپنا گھٹنا آپ ﷺ کے گھٹنے سے ملا لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور تقدیر پر ایمان لاؤ، اس کے اچھے اور برے، میٹھے اور کڑوے پر۔ اے عدی بن حاتم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح نہ کر لیے جائیں۔ اے عدی بن حاتم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک حرہ سے (اکیلی) کجاوے پر سوار عورت نہ چلے - اس وقت کوفہ ابھی آباد نہیں ہوا تھا - یہاں تک کہ وہ بغیر کسی محافظ کے اس کعبہ کا طواف کرے۔ اے عدی بن حاتم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مال کا تھیلا (لوگوں میں) نہ گھومے، تم اسے لے کر گھومو گے اور اسے قبول کرنے والا کوئی نہ پاؤ گے، تو اسے زمین پر دے مارو گے اور کہو گے: کاش تو نہ ہوتا! کاش تو مٹی ہوتا!“