❮
❯
حدیث نمبر: 14137
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى وَهُوَ آخِذٌ بِخِطَامِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، أَلَا إِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، مَنِ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
ترجمہ

سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا جب آپ ﷺ منیٰ میں اپنی سواری پر خطبہ دے رہے تھے، آپ ﷺ اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے اور وہ جگالی کر رہی تھی، اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے ہر انسان کو میراث میں اس کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے، اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، سنو! بچہ (شرعی) بستر والے کا ہے، اور بدکار کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آقاؤں سے بےرغبتی کرتے ہوئے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14137
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 34، حدیث 65