المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن عوف مولى سهيل بن عمرو ويقال: حليف بني عامر بن لؤي بدري باب: سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو کے آزاد کردہ غلام، اور کہا جاتا ہے: بنو عامر بن لؤی کے حلیف، بدری
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَدَنِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ، وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرٍ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَأَتَى بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ الْبَحْرَيْنَ، أَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ، فَوَافَتْ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ: «أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَيْءٍ؟» قَالُوا: أَجَلْ، قَالَ: «فَأَبْشِرُوا وَأْمَلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللهِ مَا الْفَقْرُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَيُلْهِيكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ»سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: … (لوگ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر کے لیے آئے، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھا لی تو واپس ہوئے، لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا: ”میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ آ گئے ہیں اور کچھ لے کر آئے ہیں؟“ عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو خوش ہو جاؤ اور جس چیز سے خوشی ہوگی اس کی امید رکھو، اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خطرہ نہیں، بلکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم بھی اسی طرح اس کی رغبت میں آپس میں مقابلہ کرو گے جیسے انہوں نے کیا، اور وہ تمہیں اسی طرح غافل کر دے گی جیسے انہیں غافل کر دیا تھا۔“