المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن عوف بن ملحة المزني باب: سیدنا عمرو بن عوف بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ رابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبَوْلَانَ، يَا عَلِيُّ» - يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ وَيُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رُوقَةُ الْمُسْلِمِينَ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَأْخُذُهُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ ورُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيَهْدِمُ اللهُ حِصْنَهَا، فَيُصِيبُوا مَالًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ، حَتَّى إِنَّهُمْ يَقْسِمُونَ بالتِّرْسَةِ، ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ، فَيَنْقَبِضُ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ، وَالْآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ، ثُمَّ يَقُولُونَ: مَنْ هَذَا الصَّارِخُ؟ وَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ، فَيَقُولُونَ: ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَسَيَأْتِيكُمْ بِعِلْمِهِ، فَيَأْتُونَ فَيُبْصِرونَ فَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا، وَيَرَوْنَ النَّاسَ سَاكِتِينَ فَيَقُولُونَ: مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا إِلَيْنَا فاعْتَزِمُوا، ثُمَّ ارْشُدُوا فَنَخْرُجُ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا "سیدنا عمرو بن عوف بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں کا ایک مورچہ بولان میں (قائم) ہوگا، اے علی!“ (آپ ﷺ کی مراد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے تھی) انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عنقریب بنی اصفر (رومیوں) سے لڑو گے، اور تمہارے بعد آنے والے مومن بھی ان سے لڑیں گے، پھر ان کی طرف اہلِ حجاز کے برگزیدہ مسلمان نکلیں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اللہ کے معاملے میں انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہوگی، یہاں تک کہ اللہ ان پر قسطنطنیہ اور رومیہ کو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے فتح کر دے گا، اللہ اس کا قلعہ گرا دے گا، اور وہ اتنا عظیم مال پائیں گے جتنا پہلے کبھی نہ پایا ہوگا، یہاں تک کہ وہ ڈھالوں کے وزن سے (مال) تقسیم کریں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے اہلِ اسلام! مسیح دجال تمہارے علاقوں میں نکل آیا ہے۔ چنانچہ لوگ مال سے ہاتھ روک لیں گے، کچھ لینے والے ہوں گے اور کچھ چھوڑنے والے، لینے والا بھی نادم ہوگا اور چھوڑنے والا بھی نادم ہوگا۔ پھر وہ کہیں گے: یہ پکارنے والا کون ہے؟ اور انہیں معلوم نہ ہوگا کہ وہ کون ہے، تو وہ کہیں گے: لد کی طرف ایک اگلا دستہ بھیجو، اگر مسیح (دجال) نکلا ہوگا تو وہ اس کی خبر لے کر تمہارے پاس آئے گا۔ چنانچہ وہ جائیں گے اور دیکھیں گے تو انہیں کچھ نظر نہ آئے گا، اور وہ لوگوں کو خاموش پائیں گے، تو کہیں گے: پکارنے والے نے ہماری ہی طرف پکارا تھا، سو پختہ عزم کرو، پھر درست فیصلہ کرو، ہم سب مل کر لد کی طرف نکلیں گے، اگر وہاں مسیح دجال ہوا تو ہم اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دے، اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور اگر (بات) کچھ اور ہوئی تو یہ تمہارے ہی علاقے، تمہارے ہی قبیلے اور تمہاری ہی فوجیں ہیں، تم انہی کی طرف لوٹ آؤ گے۔“