المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أرقم الزهري وهو عبد الله بن الأرقم بن عبد يغوث بن وهب بن عبد مناف بن زهرة، وأمه عمرة بنت الأرقم بن هاشم بن عبد مناف، كان قد عمي قبل وفاته، كان كاتبا للنبي صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر، وعثمان رضي الله عنهم باب: سیدنا عبداللہ بن ارقم زہری رضی اللہ عنہ، وہ عبداللہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف تھیں، وفات سے پہلے نابینا ہوگئے تھے، نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے کاتب (وحی نویس) تھے
حدیث نمبر: 14048
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابُ رَجُلٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: «أَجِبْ عَنِّي» ، فَكَتَبَ جَوَابَهُ ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: «أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ اللهُمَّ وَفِقْهُ» ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَانَ يُشَاوِرُهُترجمہ
عبدالواحد بن ابی عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص کا خط آیا تو آپ ﷺ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری طرف سے جواب لکھو۔“ چنانچہ انہوں نے جواب لکھا، پھر اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درست اور اچھا لکھا، اے اللہ! اسے توفیق دے۔“ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔