حدیث نمبر: 13900
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: ٣١] ، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا؟، قَالَ: «نَعَمْ، لَيُكَرَّرُ عَلَيْكُمْ ذَلِكَ حَتَّى يِرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ» ، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ إِنَّ الْأمْرَ لَشَدِيدٌ
ترجمہ

(روایت ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”بےشک تم نے بھی مرنا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے حضور جھگڑا کرو گے“ [سورۃ الزمر: 31]۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا دنیا میں جو ہمارے درمیان (اختلافات) تھے وہ ہمارے سامنے دہرائے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ ضرور دہرایا جائے گا یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق واپس دلایا جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو بڑا سخت معاملہ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13900
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 122، حدیث 303