حدیث نمبر: 13818
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَامِلٌ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَنُفِسَتْ، فَأَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكُهُ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ، فَأُتِيَ بِتَمْرَةٍ فَمَصَّهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي فِيهِ فَحَنَّكَهُ بِهَا، فَإِنْ كَانَ أَوَّلُ شىءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: ثُمَّ مَسَحَهُ رَسُولُ اللهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ لِيُبَايِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَهُ الزُّبَيْرُ بِذَلِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا وَبَايَعَ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ بِالْمَدِينَةِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ أَخَذْنَاهُمْ فَلَا يُولَدُ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ وَلَدٌ، فَكَبَّرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ عَبْدُ اللهِ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِينَ سَمِعَ بِتَكْبِيرِ أَهْلِ الشَّامِ، وَقَدْ قَتَلُوا عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ: الَّذِينَ كَبَّرُوا عَلَى مَوْلِدِهِ خَيْرٌ مِنَ الَّذِينَ كَبَّرُوا عَلَى قَتْلِهِ "
ترجمہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کر کے نکلیں جبکہ وہ عبداللہ بن زبیر سے حاملہ تھیں، تو انہیں دردِ زہ شروع ہو گیا، پھر وہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لائیں تاکہ آپ ﷺ ان کی گھٹی دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں لے کر اپنی گود میں رکھا، پھر ایک کھجور منگوائی گئی، آپ ﷺ نے اسے چبایا، پھر اسے اس کے منہ میں رکھ کر گھٹی دی، تو سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعاب دہن تھا۔ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا، پھر بعد میں جب وہ سات یا آٹھ برس کے ہوئے تو نبی کریم ﷺ سے بیعت کرنے کے لیے آئے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں آتے دیکھ کر مسکرائے اور ان سے بیعت لی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد مدینہ میں اسلام میں پیدا ہونے والے سب سے پہلے بچے تھے، اور یہودی کہا کرتے تھے: ہم نے ان پر جادو کر دیا ہے، اب مدینہ میں ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا، تو جب عبداللہ پیدا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے تکبیر کہی۔ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے، جب شام والوں کی تکبیر سنی جبکہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کر دیا تھا، فرمایا: جن لوگوں نے ان کی پیدائش پر تکبیر کہی وہ ان لوگوں سے بہتر ہیں جنہوں نے ان کے قتل پر تکبیر کہی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13818
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 88، حدیث 221