حدیث نمبر: 13697
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَغَنِمُوا وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ، فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاهُمْ، وَكَثْرَةِ غَنِيمَتِهِمْ، وَسُرْعَةِ رَجْعَتِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَقْرَبَ مِنْكُمْ مَغْزًى، وَأَكْثَرَ غَنِيمَةً، وَأَوْشَكَ رَجْعَةً؟، مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الصُّبْحِ، فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى، وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً، وَأَوْشَكُ رَجْعَةً»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: … وہ غنیمت لے کر جلدی واپس لوٹے، تو لوگوں نے ان کے قریبی سفر، ان کی کثرتِ غنیمت اور ان کی جلد واپسی کا چرچا کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ قریبی سفر، زیادہ غنیمت اور زیادہ جلد واپسی والے عمل کی خبر نہ دوں؟ جو وضو کرے، پھر صبح کی سنتوں کے لیے مسجد جائے، تو وہی سب سے قریبی سفر، سب سے زیادہ غنیمت اور سب سے جلد واپسی والا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13697
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 42، حدیث 100