حدیث نمبر: 13695
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُ رِجَالٍ، فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمُكَ؟» ، قَالَ: أَبُو غَزْوَانَ، قَالَ: فَحَلَبَ لَهُ سَبْعَ شِيَاهٍ، فَشَرِبَ لَبَنَهَا كُلَّهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ يَا أَبَا غَزْوَانَ أَنْ تُسْلِمَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، فَأَسْلَمَ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَلَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً وَاحِدَةً، فَلَمْ يُتِمَّ لَبَنَهَا، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا غَزْوَانَ؟» ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا لَقَدْ رَوِيتُ، قَالَ: «إِنَّكَ أَمْسِ كَانَ لَكَ سَبْعَةُ أَمْعَاءٍ، وَلَيْسَ لَكَ الْيَوْمَ إِلَّا وَاحِدٌ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہر صحابی نے ایک ایک آدمی مہمان کے طور پر لے لیا، اور نبی کریم ﷺ نے بھی ایک آدمی کو اپنے پاس رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ابوغزوان۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اس کے لیے سات بکریوں کا دودھ دوہا، تو اس نے سب کا دودھ پی لیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”ابوغزوان، کیا تم اسلام قبول کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے صرف ایک بکری کا دودھ دوہا، تو وہ اس کا دودھ بھی پورا نہ پی سکا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوغزوان، تمہیں کیا ہوا؟“ اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا، میں سیر ہو چکا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کل تمہاری سات آنتیں تھیں، اور آج تمہاری صرف ایک ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13695
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 41، حدیث 98