المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوعبدالرحمن حبلی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13664
حَدَّثَنَا أَبُو يُزَيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لِلشَّهِيدِ سِتُّ خِصَالٍ، يُغْفَرُ لَهُ بِأَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شہید کے لیے چھ خصلتیں ہیں: اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے، اسے قیامت کی گھبراہٹ سے امن دیا جاتا ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے، اس کا نکاح حورعین سے کیا جاتا ہے، اور اسے عذابِ قبر سے پناہ دی جاتی ہے۔“