المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب عكرمة، عن عبد الله بن عمرو باب: عکرمہ کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ الْفِتْنَةَ، أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا» ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ؟، قَالَ: «الْزَمْ بَيْتَكَ، وَأَمْلِكُ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ الْخَاصَّةِ، وَدَعْ أَمَرَ الْعَامَّةِ»سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا، یا آپ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ لوگوں کے عہد ڈھیلے پڑ گئے ہیں اور ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ اس طرح ہو گئے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کی طرف اٹھ کھڑا ہوا اور عرض کیا: اس وقت میں کیا کروں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑو، اپنی زبان کو قابو میں رکھو، جو (اچھا) جانتے ہو اسے اختیار کرو اور جو برا سمجھو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملے کی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔“