المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن دينار، عن ابن عمر باب: عمرو بن دینار کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الشَّافِعِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الضَّبِّيُّ، ثنا سُكَيْنُ بْنُ أَبِي سِرَاجٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ تَعَالَى أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ تَعَالَى سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ، أَوْ تَكَشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا - وَمَنَ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ، وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلَأَ اللهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يَتَهَيَّأَ لَهُ أَثْبَتَ اللهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامِ»ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کو محبوب کون ہے؟ اور اعمال میں سب سے زیادہ اللہ کو کون سا عمل محبوب ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا ہو، اور اعمال میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب وہ خوشی ہے جو تم کسی مسلمان کے دل میں داخل کرو، یا اس کی کوئی مصیبت دور کرو، یا اس کا قرض ادا کرو، یا اس کی بھوک دور کرو۔ اور میرا اپنے بھائی کے ساتھ اس کی کسی ضرورت میں چلنا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد میں - یعنی مسجدِ مدینہ میں - ایک ماہ کا اعتکاف کروں۔ اور جو اپنے غصے کو روک لے، اللہ اس کا عیب چھپا دے گا، اور جو اپنے غصے کو پی جائے، حالانکہ اگر چاہے تو اسے نافذ کر سکتا تھا، اللہ قیامت کے دن اس کا دل امید سے بھر دے گا، اور جو اپنے بھائی کے ساتھ اس کی کسی ضرورت میں چلے یہاں تک کہ وہ پوری ہو جائے، اللہ اس کے قدم اس دن جما دے گا جس دن قدم پھسلیں گے۔“