المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن عمير، عن ابن عمر باب: عبید بن عمیر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13384
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ أَوْ لَمْ يَتَقَبَّلِ اللهُ لَهَ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يُقْبَلْ لَهَ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يُقْبَلْ لَهَ صَلَاةٌ، وَكَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهَ مِنْ نَهَرِ الْخَبَالِ» قُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا نَهَرُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ»ترجمہ
اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”جو شراب پیئے اس کی چالیس صبحوں تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، پھر اگر وہ دوبارہ پیئے تو چالیس صبحوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، پھر اگر وہ دوبارہ پیئے تو اس کی نماز ہی قبول نہیں ہوتی، اور اللہ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ وہ اسے ’نہر الخبال‘ سے پلائے۔“ ہم نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! نہر الخبال کیا ہے؟ فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ۔“