حدیث نمبر: 13378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، كُتِبَتْ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ أَعَانَ فِي خُصُومَةِ بَاطِلٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ بَهَتَ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ وَلَيْسَ بِخَارِجٍ "
ترجمہ

حمران بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر کہے، اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جو کسی باطل جھگڑے میں مدد کرے وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے۔ اور جس کی سفارش اللہ کی کسی حد کے نفاذ میں رکاوٹ بن جائے تو اس نے اللہ کے معاملے میں اللہ کی مخالفت کی۔ اور جو کسی مومن مرد یا مومنہ عورت پر بہتان باندھے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ’ردغۃ الخبال‘ (جہنمیوں کی پیپ کی دلدل) میں روک دے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے، حالانکہ وہ اس سے نکل نہیں سکے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13378
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 388، حدیث 13435