❮
❯
حدیث نمبر: 13326
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ نَالَ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا أَخِي فَغَضِبَ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ: ذَلِكَ مِرَارًا فَغَضِبَ عُمَرُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانَتْهَوْا إِلَيْهِ وَجَلَسُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسْأَلُكَ أَخُوكَ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُ فَلَا تَفْعَلُ» ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا مِنْ مَرَّةٍ يَسْأَلُنِي إِلَّا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُ لَهُ، وَمَا مِنْ خَلْقِ اللهِ بَعْدَكَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَنَا والذي بعثك بالحق، مَا مِنْ أَحَدٌ بَعْدَكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُؤْذُونِي فِي صَاحِبِي، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي بِالْهُدَى، وَدِينِ الْحَقِّ فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَلَوْلَا أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّاهُ صَاحِبًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ اللهِ أَلَا فَسُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ إِلَّا خَوْخَةَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ "
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کچھ سخت بات کہہ دی، پھر کہا: میرے بھائی! میرے لیے بخشش مانگو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا، انہوں نے کئی بار یہ بات دہرائی مگر عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ بڑھتا گیا، تو انہوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، اور دونوں آپ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا بھائی تم سے اپنے لیے بخشش مانگنے کی درخواست کرتا ہے اور تم انکار کرتے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا، جب بھی انہوں نے مجھ سے کہا، میں ان کے لیے بخشش مانگتا رہا ہوں، اور آپ کے بعد اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی مجھے ان سے زیادہ محبوب نہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ کے بعد مجھے بھی کوئی ان سے زیادہ محبوب نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ میرے ساتھی کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، کیونکہ اللہ عزوجل نے مجھے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تو تم نے کہا: تم نے جھوٹ کہا، جبکہ ابوبکر نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ اور اگر اللہ عزوجل نے اسے صاحب کا نام نہ دیا ہوتا تو میں اسے اپنا خلیل بنا لیتا، لیکن یہ اللہ کی بھائی چارگی ہے۔ سن لو! ہر دروازہ بند کر دو سوائے ابن ابی قحافہ کے دروازے کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13326
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 372، حدیث 13383