المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن الضحاك بن خليفة الأنصاري يكنى أبا زيد باب: سیدنا ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوزید
حدیث نمبر: 1328
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ ينْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ فِيهَا، وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ، مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟» قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ، فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»ترجمہ
… (ایک شخص نے) عرض کیا کہ اس نے بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی تھی، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید منائی جاتی تھی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو، کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں، اور قطع رحمی میں، اور اس چیز میں جس کا ابنِ آدم مالک نہ ہو، نذر پوری کرنا واجب نہیں۔“