حدیث نمبر: 13245
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: «غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ لَا يُعَابُ عَلَى الْمُكَبِّرِ تَكْبِيرُهُ، وَلَا عَلَى الْمُلَبِّي تَلْبِيَتُهُ» وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ مِمَّنْ يُكَبِّرُ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفہ کی طرف روانہ ہوئے، ہم میں سے کچھ تلبیہ پکارتے اور کچھ تکبیر کہتے، تکبیر کہنے والے پر اس کی تکبیر کی وجہ سے، اور تلبیہ پکارنے والے پر اس کی تلبیہ کی وجہ سے کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔“ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جو تکبیر کہتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13245
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 345، حدیث 13302