المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن يسار، عن ابن عمر باب: سعید بن یسار کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13214
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " أَلَيْسَ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ "ترجمہ
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں مکہ کے راستے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، جب مجھے صبح ہونے کا خدشہ ہوا تو میں سواری سے اتر کر وتر پڑھی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا رسول اللہ ﷺ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ نہیں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ اونٹ پر ہی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔“