المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن الضحاك بن خليفة الأنصاري يكنى أبا زيد باب: سیدنا ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوزید
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ»ترجمہ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کی جھوٹی قسم کھائی، تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کی، اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا، اور جس چیز کا آدمی مالک نہ ہو اس میں اس پر کوئی نذر نہیں۔“