المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن الضحاك بن خليفة الأنصاري يكنى أبا زيد باب: سیدنا ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوزید
حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَعُنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ، كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ»ترجمہ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کا آدمی مالک نہ ہو اس میں کوئی نذر نہیں، اور مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کے مترادف ہے، اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کی، اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا، اور جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کی جھوٹی قسم کھائی، تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی، تو وہ اس کے قتل کے مترادف ہے۔“