المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن الضحاك بن خليفة الأنصاري يكنى أبا زيد باب: سیدنا ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوزید
حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا، أَوْ مُؤْمِنَةً، بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ، بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ لِلْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ»ترجمہ
سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کے مترادف ہے، اور جس نے کسی مومن مرد یا مومنہ عورت پر کفر کی تہمت لگائی، تو وہ اس کے قتل کے مترادف ہے، اور جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کی قسم کھائی، تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کی، اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا، اور بندے کے لیے اس چیز میں نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔“