حدیث نمبر: 13131
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، أنا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ، ثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ؟ قَالَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فَغَيَّمَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَجَاءَتْ صَخْرَةٌ حَتَّى طَبَقَتِ الْبَابَ عَلَيْهِمْ فَعَالَجُوهَا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِي أَمْرٍ عَظِيمٍ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ؛ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُنْجِيَنَا مِنْ هَذَا " ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ بِطُولِهِ
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص فرق الارز والے کی طرح ہو سکے، وہ ایسا ہی بن جائے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرق الارز والا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمی نکلے تو ان پر آسمان پر بادل چھا گئے، وہ ایک غار میں داخل ہو گئے، پھر ایک چٹان آ کر دروازے پر جم گئی، انہوں نے اسے ہٹانے کی کوشش کی مگر نہ ہٹا سکے، تو انہوں نے آپس میں کہا: تم بڑی مشکل میں پھنس گئے ہو، سو تم میں سے ہر ایک اپنے بہترین عمل کے وسیلے سے دعا کرے، شاید اللہ ہمیں اس سے نجات دے دے۔“ (پھر راوی نے غار کی مشہور حدیث تفصیل سے بیان کی)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13131
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 304، حدیث 13188