المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، قَالَ سَالِمٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ الْخُيَلَاءَ»ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا کپڑا تکبر سے گھسیٹے، اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔“ سالم بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہبند کا ایک پلو خود بخود لٹک جاتا ہے، الا یہ کہ میں اس کا خاص خیال رکھوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم ان میں سے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہیں۔“