حدیث نمبر: 13038
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ: «بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ، فَلَمَّا أَخَذَ فِي اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ» ، قَالَ: «اللهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» فَلَمَّا سَوَّوُا الْكَثِيبَ عَلَيْهَا فَقَامَ إِلَى جَانِبِ الْقَبْرِ , ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا» ، فَقُلْتُ: أَشْيَاءُ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ أَشْيَاءُ قُلْتَ: مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں حاضر تھا، جب انہوں نے اسے لحد میں رکھا تو فرمایا: ”بسم اللہ، اور اللہ کے راستے میں، اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر۔“ پھر جب لحد پر اینٹیں رکھنے لگے تو فرمایا: ”اے اللہ! اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے پناہ دے۔“ پھر جب انہوں نے مٹی برابر کر دی تو قبر کے پہلو میں کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے اللہ! زمین کو اس کے پہلوؤں سے کشادہ کر دے، اور اس کی روح کو بلند کر، اور اسے اپنی رضا سے نواز۔“ میں نے پوچھا: یہ باتیں آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں تو (چاہوں تو) خود بھی بات کہنے پر قادر ہوں، بلکہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13038
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 274، حدیث 13094