المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن وعلة السبأي، عن ابن عباس باب: عبدالرحمن بن وعلہ سبائی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12923
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا الْخَيْرِ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ، وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ وَلَهُمْ قِرِبٌ يَكُونُ فِيهَا اللَّبَنُ، وَالْمَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «الدِّبَاغُ طَهُورٌ» ، فَقَالَ ابْنُ وَعْلَةَ: عَنْ رَأْيِكَ أَوْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ؟، قَالَ: «بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»ترجمہ
ابن وعلہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ہم اس مغرب کے علاقے میں جہاد کرتے ہیں، وہ بت پرست لوگ ہیں اور ان کے پاس مشکیزے ہوتے ہیں جن میں دودھ اور پانی رکھا جاتا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رنگائی (دباغت) پاک کر دیتی ہے۔“ ابن وعلہ نے پوچھا: یہ آپ کی اپنی رائے ہے یا کوئی سنی ہوئی بات؟ انہوں نے فرمایا: ”بلکہ ایک ایسی بات جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔“