حدیث نمبر: 12921
حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدٍ الْخَوْلَانِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: سَأُخْبِرُكَ عَنِ الْخَمْرِ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَسْجِدِ , فَبَيْنَمَا هُوَ مُحَْبتي حَلَّ حَبْوَتَهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ الْخَمْرِ شَيْءٌ فَلْيُؤْذِنِّي بِهِ» ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ: عِنْدِي رَاوِيَةُ خَمْرٍ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: عِنْدِي رَاوِيَةٌ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: عِنْدِي زُقَاقٌ وَمَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوهُ بِبَقِيعِ كَذَا، وَكَذَا ثُمَّ آذِنُونِي» ، & فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَمَشَيْتُ عَنْ يَمِينِهِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ , فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَنِي، عَنْ يَسَارِهِ وَجَعَلَ أَبَا بَكْرٍ مَكَانِي، ثُمَّ لَحِقَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَخَذَهُ , فَجَعَلَهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَمَشَى بَيْنَهما حَتَّى إِذَا وَقَفَ عَلَى الْخَمْرِ قَالَ لِلنَّاسِ: «أَتَعْرِفُونَ هَذِهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْخَمْرُ، قَالَ: «صَدَقْتُمْ إِنَّ اللهَ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا» ثُمَّ دَعَا بِسِكِّينٍ , فَقَالَ: «اشْحَذُوهَا» فَفَعَلُوا، ثُمَّ أَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فخْرِقُ الْأَزْقَاقَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّ فِي هَذِهِ الْأَزْقَاقِ مَنْفَعَةً , فَقَالَ: «أَجَلْ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ غَضَبًا لِلَّهِ لِمَا فِيهَا مِنْ سَخْطَةٍ» قَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ
ترجمہ

…تو انہوں نے کہا: میں تمہیں شراب کے بارے میں بتاتا ہوں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھا، اسی دوران آپ ﷺ نے اپنی چادر لپیٹی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھولا، پھر فرمایا: ”جس کے پاس شراب میں سے کچھ ہو وہ مجھے اطلاع دے۔“ چنانچہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آنے لگے، کوئی کہتا: میرے پاس ایک بڑا مشکیزہ شراب ہے، دوسرا کہتا: میرے پاس ایک مشکیزہ ہے، تیسرا کہتا: میرے پاس ایک کھال ہے، اور جو کچھ اللہ چاہتا کہ کسی کے پاس ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے فلاں فلاں بقیع میں جمع کرو، پھر مجھے اطلاع دو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوا، میں آپ ﷺ کی دائیں طرف چلا جبکہ آپ ﷺ مجھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، تو ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، رسول اللہ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی بائیں طرف کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو میری جگہ کر لیا، پھر ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مل گئے، تو آپ ﷺ نے انہیں پکڑ کر اپنی بائیں طرف کر لیا، پھر آپ ﷺ ان دونوں کے درمیان چلتے رہے یہاں تک کہ جب شراب پر پہنچے تو لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! یہ شراب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، بیشک اللہ نے شراب پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے لیے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک چھری منگوائی اور فرمایا: ”اسے تیز کرو۔“ چنانچہ ایسا کیا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے پکڑ لیا اور مشکیزوں کو چاک کر دیا، تو لوگوں نے کہا: ان مشکیزوں میں فائدہ ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میں یہ کام صرف اللہ کی خاطر غصے میں کر رہا ہوں، کیونکہ اس میں اللہ کی ناراضی ہے۔“
راوی کہتے ہیں: اور کچھ راوی اس حدیث میں ایک دوسرے پر اضافہ کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12921
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 233، حدیث 12977