المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يوسف بن مهران، عن ابن عباس باب: یوسف بن مہران کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْنِي أُبَايِعُهَا فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَيْهَا، وَرَاوَدْتُهَا، وَصَنَعْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ الْجِمَاعِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَسَلْهُ، فَأَتَاهُ , فَقَالَ لَهُ: مَا قَالَ لِعُمَرَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ: لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، قَالَ: أَجَلْ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَرَفَعَ عُمَرُ يَدَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ، فَقَالَ: لَا وَاللهِ، وَلَا كَرَامَةَ، وَلَكِنْ لِلنَّاسِ عَامَّةً، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «صَدَقَ عُمَرُ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ایک عورت میرے پاس خرید و فروخت کرنے آئی، تو میں نے اسے ایک تنہائی کی جگہ لے جا کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، اس سے ناجائز خواہش کی، اور جماع کے سوا ہر کام اس سے کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: افسوس تجھ پر، شاید اس کا شوہر (گھر سے) غائب ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: ابوبکر کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ وہ ان کے پاس گیا تو اس نے وہی بات کہی جو عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، تو انہوں نے بھی کہا: افسوس تجھ پر، شاید اس کا شوہر غائب ہے۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ ﷺ سے بھی وہی بات کہی جو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے کہی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: ”افسوس تجھ پر، شاید اس کا شوہر اللہ کی راہ میں (گھر سے) غائب ہے۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، اور یہ آیت نازل ہوئی: ”دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو“ [سورۃ ہود: 114] آخر آیت تک۔ اس پر اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ صرف میرے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے بھی؟ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اس کے سینے پر مارا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اور نہ (تیرے لیے) کوئی خاص اعزاز ہے، بلکہ یہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”عمر نے سچ کہا۔“