❮
❯
حدیث نمبر: 12854
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَشَارَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ، وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ، أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ: مَا بِنَا بُخْلٌ، وَلَا حَاجَةٌ، وَلَكِنْ جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ: «هَكَذَا فَاصْنَعُوا»
ترجمہ

بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا: یہ لوگ پانی اور شہد پلاتے ہیں، اور فلاں خاندان دودھ پلاتا ہے، اور تم لوگ نبیذ پلاتے ہو، کیا یہ تمہاری کنجوسی کی وجہ سے ہے یا کسی ضرورت کی وجہ سے ایسا کرتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس نہ بخل ہے اور نہ کوئی ضرورت، بلکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، تو ہم نے آپ ﷺ کو یہ نبیذ پلائی، آپ ﷺ نے اس میں سے پی، اور فرمایا: ”ایسے ہی کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12854
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 207، حدیث 12910