حدیث نمبر: 12784
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ: «إِنِّي أَسْمَعُ صَوْتًا، وَأَرَى ضَوْءًا، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي خَبَلٌ» ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَفْعَلَ بِكَ ذَلِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللهِ. ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ يَكُنْ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى، وَإِنْ يُبْعَثْ، وَأَنَا حَيٌّ سَأُعَزِّرُهُ، وَأَنْصُرُهُ، وَأُعِينُهُ
ترجمہ

…(ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے) کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میں ایک آواز سنتا ہوں اور ایک روشنی دیکھتا ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے کوئی خلل لاحق نہ ہو گیا ہو۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ آپ کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کرے گا، اے عبداللہ کے بیٹے! پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور انہیں یہ بات بتائی، تو انہوں نے کہا: اگر یہ سچے ہیں تو یہ وہی ناموس (فرشتہ وحی) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اترا تھا، اور اگر وہ نبی بنا کر بھیجے گئے اور میں زندہ رہا تو میں ضرور ان کی مدد کروں گا، ان کی نصرت کروں گا اور ان کی اعانت کروں گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12784
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 186، حدیث 12839