المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمار بن أبي عمار، عن ابن عباس باب: عمار بن ابی عمار کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِيمَا يَحْسَبُ أَبُو سَلَمَةَ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا وَدَعَتْ أَبَاهَا وَأُنَاسًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَخْطُبُنِي قُمْ فَزَوِّجْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَخَلَفَتْهُ، وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ إِذَا زَوَّجُوا بَنَاتِهِمْ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ السُّكْرُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَقَالَ مَا شَأْنِي؟ فَقَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مِنْ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَنَا زَوَّجْتُكِ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: أَمَا تَسْتَحِي أَتُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ، تُخْبِرُ قُرَيْشًا وَالنَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانًا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ "…(راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا، اور ان کے والد چاہتے تھے کہ ان کی شادی آپ ﷺ سے کر دیں، تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانا اور شراب تیار کی اور اپنے والد اور قریش کے کچھ لوگوں کو بلایا، انہوں نے کھایا اور پیا۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا: محمد بن عبداللہ مجھ سے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں، اٹھیے اور ان سے میرا نکاح کر دیجیے۔ چنانچہ انہوں نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی اور ایک جوڑا پہنایا، اور اس زمانے میں باپ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کے وقت ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ جب ان کا نشہ اترا تو انہوں نے دیکھا کہ وہ خوشبو لگائے اور جوڑا پہنے ہوئے ہیں، تو کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے میرا نکاح محمد ﷺ سے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے تیرا نکاح ابوطالب کے یتیم سے کیا ہے؟ ہرگز نہیں، میری عمر کی قسم! اس پر خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ کیا آپ اپنے آپ کو بےوقوف ظاہر کرنا چاہتے ہیں، قریش اور لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ نشے میں تھے؟ وہ برابر انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔