حدیث نمبر: 12775
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الصَّلَاةِ، وَمَوَاقِيتِهَا , فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ شُعَاعِ الشَّمْسِ، وَيَذْهَبُ وَقْتُهَا، وَقَدْ أَدْلَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَرَّسَ , فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا , فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتْ فَصَلَّى، وَهِيَ صَلَاةُ الْوُسْطَى»
ترجمہ

جابر بن زید سے نماز اور اس کے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”فجر کی نماز کا وقت طلوعِ فجر سے لے کر سورج کی کرنیں نکلنے تک ہے، اس کے بعد اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر میں رات کے آخری حصے میں سفر کیا، پھر پڑاؤ ڈالا، تو آپ ﷺ سورج طلوع ہونے یا اس کا کچھ حصہ نکلنے تک بیدار نہ ہوئے، پھر جب تک سورج بلند نہ ہو گیا آپ ﷺ نے نماز نہیں پڑھی، پھر نماز پڑھی، اور یہی ’صلاۃ الوسطیٰ‘ (درمیانی نماز) ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12775
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 183، حدیث 12830