حدیث نمبر: 12774
حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُؤْتَى بِالشَّهِيدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ، وَيُؤْتَى بِالْمُتَصَدِّقِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ، وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ، وَلَا يُنْشَرُ لَهُمْ دِيوَانٌ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبًّا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْعَافِيَةِ لَيَتَمَنَّوْنَ فِي الْمَوْقِفِ أَنَّ أَجْسَادَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِنْ حُسْنِ ثَوَابِ اللهِ لَهُمْ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن شہید کو لایا جائے گا تو اسے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا، اور صدقہ دینے والے کو لایا جائے گا تو اسے بھی حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا، پھر آزمائش زدہ لوگوں کو لایا جائے گا، ان کے لیے نہ کوئی میزان قائم کی جائے گی اور نہ ان کا کوئی دفتر (اعمال نامہ) کھولا جائے گا، بلکہ ان پر اجر انڈیل دیا جائے گا، یہاں تک کہ صحت مند لوگ اس دن یہ آرزو کریں گے کہ کاش ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹا گیا ہوتا، اللہ کے اس اچھے بدلے کو دیکھ کر جو ان آزمائش زدوں کو دیا جا رہا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12774
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 182، حدیث 12829