حدیث نمبر: 12725
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «زُرْتُ خَالَتِي فَوَافَقْتُ لَيْلَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا , فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِسَحَرٍ طَوِيلٍ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمٍّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَجِئْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا عَلِمَ أَنِّي أُرِيدُ الصَّلَاةَ أَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي، عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْتَرَ بِسَبْعٍ أَوْ بِتِسْعٍ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ حَتَّى سَمِعْتُ صَفِيرَهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں اپنی خالہ کے ہاں گیا تو اتفاق سے وہ رات نبی کریم ﷺ کے وہاں قیام کی رات تھی۔ رسول اللہ ﷺ رات کے پچھلے پہر لمبے وقت کے لیے اٹھے اور خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ ﷺ کے پہلو میں آ کھڑا ہوا۔ جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور سات یا نو رکعتوں پر وتر کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھ لیا یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی خراٹے کی آواز سنی، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 166، حدیث 12780